اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے

دیوان سوم غزل 1293
بیتابی جو دل ہر گھڑی اظہار کرے ہے
اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے
کچھ میں بھی عجب جنس ہوں بازار جہاں میں
سو ناز مجھے لیتے خریدار کرے ہے
ہے اشک سے بلبل کے بھرا چقروں میں پانی
گل باغ سے کیا رخت سفر بار کرے ہے
اس چاہ نے دل ہی کی تو بیمار کیے ہیں
یہ دوستی ہی ہے جو گرفتار کرے ہے
آگے تو جو کچھ ہم نے کہا مان لیا اب
ایک ایک سخن پر بھی وہ تکرار کرے ہے
زنہار نہ جا پرورش دور زماں پر
مرنے کے لیے لوگوں کو تیار کرے ہے
کیا عشق میں ہم اس کے ہوئے خاک برابر
کب اپنے تئیں یوں کوئی ہموار کرے ہے
تصویر سے دروازے پہ ہم اس کے کھڑے ہیں
انسان کو حیرانی بھی دیوار کرے ہے
کیوں کر نہ ہو تم میر کے آزار کے درپے
یہ جرم ہے اس کا کہ تمھیں پیار کرے ہے
میر تقی میر