اب جی میں ہے کہ شہر سے اس کے سفر کریں

دیوان سوم غزل 1217
تاچند وہ ستم کرے ہم درگذر کریں
اب جی میں ہے کہ شہر سے اس کے سفر کریں
بے رو سے ایسی بات کے کرنے کا لطف کیا
وہ منھ کو پھیر پھیر لے ہم حرف سر کریں
کب تک ہم انتظار میں ہر لحظہ بے قرار
گھر سے نکل نکل کے گلی میں نظر کریں
فرہاد و قیس کوہکن و دشت گرد تھے
منھ نوچیں چھاتی کوٹیں یہی ہم ہنر کریں
سختی مسلم اس سے جدا رہنے میں ولے
سر سنگ سے نہ ماریں تو کیوں کر بسر کریں
وہ تو نہیں کہ دیکھیں اس آئینہ رو کو صبح
ہم کس امید پر شب غم کو سحر کریں
لاویں کہاں سے خون دل اتنا کہ میر ہم
جس وقت بات کرنے لگیں چشم تر کریں
میر تقی میر