اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

دیوان دوم غزل 726
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا
غم میں جاتی ہے عمر دہ روزہ
اپنے ہاں سے دہا نہیں جاتا
طاقت دل تلک تعب کھینچے
اب ستم ٹک سہا نہیں جاتا
اس در تر کا حیرتی ہے بحر
تب تو اس سے بہا نہیں جاتا
کب تری رہ میں میر گرد آلود
لوہو میں آ نہا نہیں جاتا
میر تقی میر