ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے

دیوان دوم غزل 981
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے
ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر سے
آگ نکلے ہے تماشے کے تئیں پتھر سے
ڈھب کچھ اچھا نہیں برہم زدن مژگاں کا
کاٹ ڈالے گا گلا اپنا کوئی خنجر سے
تھا نوشتے میں کہ یوں سوکھ کے مریے اس بن
استخواں تن پہ نمودار ہیں سب مسطر سے
یوں تو دس گز کی زباں ہم بھی بتاں رکھتے ہیں
بات کو طول نہیں دیتے خدا کے ڈر سے
سیر کرنے جو چلے ہے کبھو وہ فتنہ خرام
شہر میں شور قیامت اٹھے ہے ہر گھر سے
عشق کے کوچے میں پھر پائوں نہیں رکھنے کے ہم
اب کے ٹل جاتی ہے کلول یہ اگر سر پر سے
مہر کی اس سے توقع غلطی اپنی تھی
کہیں دلداری ہوئی بھی ہے کسو دلبر سے
کوچۂ یار ہے کیا طرفہ بلاخیز مقام
آتے ہیں فتنہ و آشوب چلے اودھر سے
ساتھ سونا جو گیا اس کا بہت دل تڑپا
برسوں پھر میر یہ پہلو نہ لگے بستر سے
میر تقی میر