ابرو تو یک طرف پلک اس کی نہیں ہلی

دیوان اول غزل 629
کیوں گردن ہلال ابھی سے ڈھلک چلی
ابرو تو یک طرف پلک اس کی نہیں ہلی
ہمت دے بادتند کو ایسی کہ بعد مرگ
مشت غبار میر نجف پہنچے یاعلی
میر تقی میر