صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 3
ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی
صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی
خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد کھلا
دونوں کے ہے بیچ لڑائی پانی کی
کشتی کب غرقاب ہوئی معلوم نہیں
آنکھوں نے تصویر بنائی پانی کی
ہم تو خون جلا کر بھوکے رہتے ہیں
کھاتے ہیں کچھ لوگ کمائی پانی کی
اس میں جتنے لوگ بھی اترے ڈوب گئے
کون بتائے اب گہرائی پانی کی
منہ میں اب تک اس کی لذت باقی ہے
جو نمکینی تھی صحرائی پانی کی
میری خاطر خاک میں جو تحلیل ہوئے
یاد آئے تو یاد نہ آئی پانی کی
آج وہ مجھ کو ٹوٹ کے یاد آیا توقیر
آنکھوں میں پھر رت گدرائی پانی کی
توقیر عباس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s