جل پری

اس قدر دودھیا خوشنما ہنس کر

اپنی جانب لپکتے ہُوئے دیکھ کر مُسکرائی

مگر اس کی یہ مسکراہٹ ہنسی بننے سے قبل ہی چیخ میں ڈھل گئی

اُس کا انکار بے سُود

وحشت ، سراسیمگی ، اجنبی پھڑپھڑاہٹ میں گُم ہو گئی

آہ وزاری کے باوصف

مضبوط پَر اُس کا سارا بدن ڈھک چکے تھے!

اُجلی گردن میں وحشت زدہ چونچ اُتری چلی جا رہی تھی

اُس کے آنسو

سمندر میں شبنم کی مانند حل ہو گئے!

سِسکیاں

تُند موجوں کی آواز میں بے صدا ہو گئیں !

ہنس اپنے لُہو کی دہکتی ہُوئی وحشتیں

نیم بے ہوش خوشبو کے رس سے بجھاتا رہا

اورپھر اپنے پیاسے بدن کے مساموں پہ

بھیگی ہُوئی لذّتوں کی تھکن اوڑھ کر اُڑگیا!

جل پری

گہرے نیلے سمندر کی بیٹی

اپنی مفتوح و نا منتظر کوکھ میں

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں رہنے والو ں کا

بے شجرہ و بے نسب ورثے کا بوجھ تھامے ہُوئے

آج تک رو رہی ہے!

پروین شاکر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s