وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 105
بدن میں جاں ، زمیں میں آسماں پوشیدہ رکھتی ہے
وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے
شئے نازک ذرا سی ضرب سے تقسیم ہو جائے
کہ آئینے کی وحدت کرچیاں پوشیدہ رکھتی ہے
ذرا پرہیز ہے مجھ کو زرِ دنیا کی نعمت سے
یہ میرے سود میں میرا زیاں پوشیدہ رکھتی ہے
جسے بانٹوں تو سب ناداریاں دنیا کی مٹ جائیں
زمیں اپنا وہ گنجینہ کہاں پوشیدہ رکھتی ہے
ہے اپنی ذات میں جو رنگ و نسلِ لفظ سے بالا
خموشی اپنے اندر وہ زباں پوشیدہ رکھتی ہے
یہ اولاد مسیحا اصل میں آلِ سکندر ہے
دکھاوے کی صلیبوں میں سناں پوشیدہ رکھتی ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s