وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 89
اسی گماں کا سراپا دل و دماغ میں آئے
وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے
پڑھوں تو صبح تلک ہچکیوں میں پڑھتا ہی جاؤں
کشید حرف کچھ ایسی مرے ایاغ میں آئے
خلا بھی خالی نہیں ہے ادھر نگاہ کروں تو
پلٹ کے روشنی سی دل کے داغ داغ میں آئے
عذابِ کارِ جہاں سے اُسے نکلنا سکھاؤں
اُسے کہو کہ مرے حجلۂ فراغ میں آئے
میں شب کے طاقچۂ لامکاں میں رکھا گیا ہوں
میری ہی چشم نما روشنی چراغ میں آئے
کرن کی تابِ فزودہ سے جو بنایا گیا ہو
وہ مہر زادہ کہاں آنکھ کے سراغ میں آئے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s