میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 94
زمیں کے ساتھ میری آنکھ بھی مدار میں ہے
میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے
سفر ہے پیشِ قدم صد ہزار صدیوں کا
تمہاری شہرتِ دو گام کس شمار میں ہے
بندھی ہوئی ہیں اکائی میں کثرتیں ساری
ہر ایک اور کسی اور کے حصار میں ہے
خرد تو آج کا زنداں ہے اس سے باہر بھی
یہ آنکھ وہم و تصور کے اختیار میں ہے
انا کے نشے میں ورنہ خدا ہی بن جاتا
یہی تو جیت ہے جو آدمی کی ہار میں ہے
کبھی جو دھیان میں لاؤں تو ڈگمگا جاؤں
عجیب نشّہ تری آنکھ کے خمار میں ہے
بلا سے، آج کسی نے اگر نہ پہچانا
وُہ دیکھ! کل کا جہاں میرے انتظار میں ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s