خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 102
بدل بھی سکتی ہیں اس چمن کی فضا یہ نظمیں
خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں
یہ رات مانگے جنوں سے نذرانہ روشنی کا
جلا جلا کر سروں سے اونچی اُڑا یہ نظمیں
مجھے بہت ہے یہ میری گمنامیوں کی خلوت
مگر کسی دن قبول کر لے خدا یہ نظمیں
سخی صلے میں کسی سے کچھ مانگتا نہیں ہے
یہ لوگ بہرے ہیں ان کو اکثر سنا یہ نظمیں
تمام اوصاف ان میں جیسے ہوں دلبروں کے
حسین و خودبیں ، وفا سے نا آشنا یہ نظمیں
میں غیب و حاضر کا نامہ بر ہوں ، یہ میرا منصب
یہاں وہاں بانٹتا رہوں گا سدا یہ نظمیں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s