خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 106
تضادوں کے سمجھنے میں مجھے دشواریاں بھی ہیں
خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں
کہیں سوتے نہ رہ جائیں زنِ خواہش کے پہلو میں
ہمیں درپیش کل کے کوچ کی تیاریاں بھی ہیں
بجا ہے اور بڑھ جاتی ہے زیر پائے لنگ آ کر
مگر اس راہ صد جادہ میں ناہمواریاں بھی ہیں
یہ خالی پن کہاں پیمانۂ مقدار میں آئے
مزے کے انت میں بے انت کی بیزاریاں بھی ہیں
میں سوتے جاگتے کی داستاں دہراتا رہتا ہوں
مری بیداریوں میں خواب کی سرشاریاں بھی ہیں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s