اے میرے مستِ ہمہ وقت، سدا جیتا رہ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 96
بادۂ شعر سے تُو مفت کی مے پیتا رہ
اے میرے مستِ ہمہ وقت، سدا جیتا رہ
کارِ بیگارِ تمنّا سے رہائی کیسی
زخم جو سل نہیں سکتا ہے اُسے سیتا رہ
کیا تصّور میں بھی پینے کی سرا ہوتی ہے
جو نہیں ہے تو سرِ عام اِسے پیتا رہ
خاکِ نسیاں سے بھلا کون اٹھائے گا تجھے
تُو کہ اک واقعہ تھا، بیت چکا، بِیتا رہ
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s