ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 82
اُسے تو وعدۂِ فردا کا ہی بہانہ بہت ہے
ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے
نئے سفر پہ چلے ہو، اسے اتارتے جاؤ
تمہارا پیرہنِ زندگی پرانا بہت ہے
دیارِ غیر میں کیوں خفتیں سمیٹنے جاؤں
مرے لئے مری مٹی کا یہ ٹھکانا بہت ہے
میں اپنی ارضِ حسیں سے سلوک جیسا کروں
مجھے ہے اس سے محبت، یہی بہانہ بہت ہے
عدو سے دوستی کر لی تو کیا برائی ہے اس میں
مگر یہ کارِ سیاست منافقانہ بہت ہے
مجھے بھی عرش کے آدرش سے اترنا پڑے گا
کہ میری وقت کا معیار درمیانہ بہت ہے
میں اس سے صلح بھی کر لیتا، کچھ بعید نہیں
مگر وہ اپنے رویّے میں درمیانہ بہت ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s