گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
جاتی رُت کا شور ہے بے آواز صداؤں میں
گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں
بدن چرائے دھوپ سے نکلی نہر سے سانولی
چھلکے رنگ غروب کے دن دوپہرے گاؤں میں
عکس ابھرتا آنکھ میں کیسے کل کے خواب کا
نیلا کانچ تھا آسماں پیلی زرد خزاؤں میں
سورج جس کا تاج تھا، دنیا جس کا تخت تھی
وہ بھی شامل ہو گیا بالآخر تنہاؤں میں
بیٹھے آمنے سامنے کہنیاں ٹیکے میز پہ
چٹکے چہرے پھول سے شہر کی شام سراؤں میں
گزرا اپنی اوٹ میں دیکھا کس نے زید کو
ہوتی کیوں سرگوشیاں بستی کی لیلاؤں میں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s