کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
کیوں نہیں ، ہم سے زمانے کے چلن اچھے ہی تھے
کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے
کاٹیے اپنی صلیبوں کے اُٹھانے کی سزا
اور کہئیے، ہم سے قیس و کوہکن اچھے ہی تھے
تیرے پہلو کی گھنی نیندیں نہ راس آئیں ہمیں
ہجر کے وہ رت جگے اے جانِ من اچھے ہی تھے
یہ تصّور خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں
آج کے باغات سے کل کے چمن اچھے ہی تھے
اس سلامت دامنی میں ربطِ گُل جاتا رہا
اپنے بوسیدہ دریدہ پیرہن اچھے ہی تھے
بعد ہم جلتے چراغوں کی طرح شاہد رہے
شوخ چہرے انجمن در انجمن اچھے ہی تھے
آ گئے کیوں عشرتِ یک جام کی خاطر یہاں
اِس مسرت سے تو غم ہائے وطن اچھے ہی تھے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s