وہ خود کو ثقلِ زمیں سے بچائے رکھتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 72
اک آشیانہ فلک پر بنائے رکھتا ہے
وہ خود کو ثقلِ زمیں سے بچائے رکھتا ہے
یہ کون اپنے کفِ جاں کی اوٹ میں رکھ کر
چراغ تیز ہوا میں جلائے رکھتا ہے
تو کیوں نہ توڑ کے دیکھوں اِسے کہ میں کیا ہوں !
یہ آئینہ مجھے مجھ سے چھپائے رکھتا ہے
وہ عقلِ کُل مجھے حیرت سے دیکھ کر پوچھے
یہ کون شخص ہے جو اپنی رائے رکھتا ہے
یہ ایک روز کی دُوری تو حشر تک نہ کٹے
وفائے عہد وہ کل پر اٹھائے رکھتا ہے
سفر میں دھوپ کے دکھ سے ہوا ہے شائستہ
یہ نخل راہ مجھے سائے سائے رکھتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s