وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے
وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے
نفس ۔ اک موجِ کم آواز ہے لیکن روانی میں
لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے
کبھی بیگانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا
ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے
وہ خواب افروز منظر چشم و دل کی سیر گاہوں کا
ابھی آگے ہے اِس اقلیمِ زور و زر سے آگے ہے
کبھی حیرت، فصیل لفظ توڑے تو خبر آئے
کہ معنی کا جہاں الفاظ کی کشور سے آگے ہے
ابھی یہ ریزہ ریزہ روشنی مٹی میں گرنے دے
نمو کا مرحلہ آنکھوں کی خاکستر سے آگے ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s