نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
اس کو پیدا کر کے خود ناپید ہو جاتا ہوں میں
نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں
کیا نشانہ ہے کہ اک چشمِ غلط انداز سے
کتنی آسانی سے اس کا صید ہو جاتا ہوں میں
اک فقیرِ بےنوا ہوں اپنی جلوت میں مگر
تخلیئے میں قیصر و جمشید ہو جاتا ہوں میں
بھیڑ جیسے فرد کا مرقد ہو جس کے درمیاں
میں نہیں رہتا ہوں کوئی زید ہو جاتا ہوں میں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s