میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 79
عجب خواب و حقیقت کے جہاں میں رہ رہا ہوں
میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں
رواں رہتا ہوں عالم گیر ہجرت کے سفر میں
زمیں پر رہ رہاں ہوں اور زماں میں رہ رہا ہوں
ذرا پہلے گماں آبادِ فردا کا مکیں تھا
اور اب نسیاں سرائے رفتگاں میں رہ رہا ہوں
مرے پرکھوں نے جو میرے لئے خالی کیا تھا
میں اگلے وارثوں کے اس مکاں میں رہ رہا ہوں
مکاں میں لامکاں کا چور دروازہ بنا کر
ہمیشہ سے ہجومِ دلبراں میں رہ رہا ہوں
زمین و آسماں کا فاصلہ ہے درمیاں میں
میں سجدہ ہوں تمہارے آستاں میں رہ رہا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s