لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 67
نہیں کہ آگ تری انگلیوں کے مس میں نہیں
لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں
کروں زبانِ غزل میں اسے ادا کیوں کر؟
وہ راز جو کہ اشاروں کی دسترس میں نہیں
یہ فصلِ گل ہے، مگر اے ہوائے آوارہ
وہ خوشبوؤں کا ترنم ترے نفس میں نہیں
برائے سیر، خزاں کو کہاں پسند آئے
وہ راستہ کہ گزرگاہِ خار و خس میں نہیں
سمٹ گیا مرے اندر کا ریگ زار کہ اب
جو تھی کبھی وہ کسک نغمۂِ جرس میں نہیں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s