سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 75
منادی ہے بموں کے طبلِ دہشت پر منادی ہے
سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے
بگولا جو اٹھا ہے پھیل کر طوفاں نہ بن جائے
کسی نے خار و خس کو زورِ آتش سے ہوا دی ہے
اسے ہم عقدِ مستقبل کا ہنگامہ سمجھتے ہیں
یہ کوئی شورِ ماتم ہے نہ کوئی جشنِ شادی ہے
نہیں ،کچھ بھی نہیں خواب و شکستِ خواب سے آگے
یہی سمجھو کہ ساری عمر ہی ہم نے گنوا دی ہے
وہ کیا جانے کہ توہینِ غرورِ عاشقاں کیا ہے
ہمارے یار نے تو خیر سے گردن جھکا دی ہے
مفاد اول، مفاد آخر، یہی محور ہے رشتوں کا
یہاں جو آج کا دشمن ہے کل کا اتحادی ہے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s