دلیلِ شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 84
میں اپنے واسطے رستہ نیا نکالتا ہوں
دلیلِ شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں
بہت ستایا ہوا ہوں لئیم دنیا کا
سخی ہوں، دل کی پرانی خلش نکالتا ہوں
زمانہ کیا ہے؟ کبھی من کی موج میں آؤں
تو نوکِ نقش پہ اپنی اسے اچھالتا ہوں
یہ میرا کنج مکاں، میرا قصرِ عالی ہے
میں اپنا سکۂِ رائج یہیں پہ ڈھالتا ہوں
مری غزل میں زن و مرد جیسے باہم ہوں
اِسے جلالتا ہوں، پھر اُسے جمالتا ہوں
ذرا پڑھیں تو مری اختیار میں نہ رہیں
یہ نونہال جنہیں مشکلوں سے پالتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s