دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 68
سو بہ سو زرد رنگوں کی پھیلی ہوئی تیرگی چھٹ گئی
دلہنیں فرش گل پر چلیں ، دور تک اُن کی آہٹ گئی
کون جانے کہ ہم راہ پر ہیں کہ گم کردۂ راہ ہیں
منزلوں کے دئیے کیا بجھے آنکھ میں روشنی گھٹ گئی
سانس نے چھو لیا کس کی سانسوں کی بھیگی ہوئی آگ کو
فرش سے لے کے پاتال تک جسم میں سنسناہٹ گئی
تھا شکنجے میں سارا بدن، حادثہ رونما نہ ہوا
ایک پل کے گزرنے میں ایسے لگا اک صدی کٹ گئی
آنکھ پر سوچ کے اَن گنت ماخذوں کی شعاعیں پڑیں
راستوں سے نکلتے ہوئے راستوں میں نظر بٹ گئی
کیوں پرِ کاہ کے زور سے جبر کے کوہ اُڑنے لگے
کیا ذرا سی انا آمرِ وقت کے سامنے ڈٹ گئی
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s