تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
لو حسرت ناداری، ہم دل سے نکال آئے
تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے
سر کہنیوں پر ٹیکے، بیٹھے ہیں پیا سے ہم
منہ بند شرابوں میں شاید کہ اُبال آئے
تاریک مناظر نے آنکھوں کے نگر لوٹے
ہم منزلِ خواہش سے بے نقد خیال آئے
برسیں مری آنکھوں پر جب ٹوٹ کے دوپہریں
شاید مرے اندر کے سایوں کو زوال آئے
ہم خوار ہوئے کتنے انکار کے صحرا میں
سوچوں میں بگولے سے بن بن کے سوال آئے
جو جان کے گوہر سے قیمت میں زیادہ تھی
لو طاقِ زیاں میں ہم وُہ چیز سنبھال آئے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s