یا دل ملتا ہے یا منصب ملتے ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 43
دونوں ہی اک ساتھ بھلا ملتے ہیں
یا دل ملتا ہے یا منصب ملتے ہیں
کون ہیں وُہ؟ وُہ خلق خدا کے بنجر ہیں
وُہ جو اُس ہوٹل میں ہر شب ملتے ہیں
آنکھیں کھول کہ دیکھو معنی دنیا کے
اِس لغّت میں سارے مطلب ملتے ہیں
کون کسے یاں جانے ہے پہچانے ہے
ملنے کو تو آپس میں سب ملتے ہیں
غم بھی اک تہذیب ہے جسکی کشور میں
تشنہ آنکھیں اور پیاسے لب ملتے ہیں
جان گنوا کر نام ملے گم ناموں کو
یہ گوہر جب کھو جائیں تب ملتے ہیں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s