گھروں کو جوڑ دیا جائے تو نگر بن جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 56
جو چوب و خِشت بہم ہوں تو ایک گھر بن جائے
گھروں کو جوڑ دیا جائے تو نگر بن جائے
ہر ابتلائے زمیں دُور ہو بھی سکتی ہے
یہ اژدہام اگر ایک ہی بشر بن جائے
خدا نصیب کرے بادِ سازگار اِسے
یہ چوب خشک کا پیکر کبھی شجر بن جائے
سفر بھی ختم نہ ہو، منزلیں بھی ساتھ چلیں
اگر یہ راہگزر تیری رہگزر بن جائے
مجھے بھی مژدہ ملے میری تاج پوشی کا
محبتوں کی قلم رو کہیں اگر بن جائے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s