کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 56
نئے شعور، نئے وقت کا طلسم لگے
کہ اپنا اسم مجھے ہر کسی کا اسم لگے
ہمیشہ اپنی فنا میں بقا تلاش کرے
بڑی عجیب مجھے جستجوئے جسم لگے
گرا جو نارِ زمانہ میں ، سرفراز ہوا
یہ آگ آتش نمرود کی ہی قسمِ لگے
یہ واہمہ ہے کہ افسوں ،کہ وصفِ خاص اُس کا
کبھی وہ سایہ لگے اور کبھی وہ جسم لگے
جو دُور ہو تو جگائے ہوس فسوں کیا کیا
قریب آئے تو ہر چیز بے طلسم لگے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s