شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کچھ ہم مزاج خطۂ مرعوب ہے یہی
شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی
اتنا نہ غور کر کہ ترا دل ہی ٹوٹ جائے
اس نازنینِ دہر کا اسلوب ہے یہی
اُس خواب کے صلے میں یہ ساری اذیّتیں
سہ لے، کہ آدمی کے لئے خوب ہے یہی
ہستی ہے ایک سلسلہ رد و قبول کا
یعنی صلیب و صالب و مصلوب ہے یہی
ٹھہرے گناہ گار جو سب سے ہو بے گناہ
کارندگانِ عدل کو مطلوب ہے یہی
دیکھو! ہم اس کی زد میں خس و خاک ہو چلے
دستِ قضا میں وقت کا جاروب ہے یہی
چلئے اُسے یہ کاغذِ خالی ہی بھیج دیں
لکھا گیا نہ ہم سے، وہ مکتوب ہے یہی
ایمان مستقیم رہا کفر کے طفیل
اُس بے وفا سے واقعہ منسوب ہے یہی
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s