رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 42
منزل قریب آئی تو ایسے بہک گئے
رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے
نکلے کبھی نہ اپنے مضافات سے پرے
اپنی تلاش میں جو بہت دور تک گئے
اک نسل کے لہو سے چراغاں تھے راستے
یہ کیا ہوا کہ قافلے پھر بھی بھٹک گئے
خبروں کے شعبدے وُہ دکھا کر دم سحر
شہ سرخیوں سے چشمِ بصارت کو ڈھک گئے
آئے نظر چراغ سے چہرے فضاؤں میں
یادیں جو ٹمٹمائیں ، اندھیرے مہک گئے
دیکھو نا اب بھی ہال کی خالی ہیں کرسیاں
ہم تو دکھا دکھا کے کرامات تھک گئے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s