بے خزاں رکھتے ہیں ہم لوگ چمن آنکھوں کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
عشرت خواب سے دہکا کے بدن آنکھوں کا
بے خزاں رکھتے ہیں ہم لوگ چمن آنکھوں کا
رہ گئی شام سی ٹھہری ہوئی سر کنڈوں میں
کھا گیا سارے مناظر کو گہن آنکھوں کا
کیا خبر انگلیوں کو ذائقے چھونے کے ملیں
اور نغموں سے مہکنے لگے بن آنکھوں کا
آ کہ اِس دھوپ کے پردیس میں آباد کریں
چشم و گیسو کے تصوّر سے وطن آنکھوں کا
رنج کیسا کہ زمانے کا طریقہ ہے یہی
وقت کے ساتھ بدلتا ہے چلن آنکھوں کا
تُو کہ پس ماندۂ خواہش ہے، طلب کر خود سے
وُہ زرِ خون جسے کہتے ہیں ، دھن آنکھوں کا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s