بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
ایک بلندی سے یوں ، آئی صدائے خیال
بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال
اسمِ بہار آفریں یاد نہیں ، دیکھئے
کب وہ مسیحا ہمیں دے گا شفائے خیال
سیر فلک ہو گئی، جو نہ ملا مل گیا
کیسے عجب معجزے کر کے دکھائے خیال
کیسے اُسے دیکھتی آنکھ نظر کے سوا
وہ جو کفِ گل پہ ہے رنگِ جنائے خیال
دُور زر و زور کے منطقۂ گرم سے
راس مجھے آگئی آب و ہوائے خیال
جوئے ستارہ بہے باغِ شب ہجر میں
تختِ صبا پر اُسے دُور سے لائے خیال
دشتِ تضادات میں کھو نہ گیا ہو کہیں
آئی نہیں دیر سے کوئی صدائے خیال
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s