بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
کاش کبھی وہ دریا زادہ مل جائے
بحر سے جا ملنے کا جادہ مل جائے
کیا کہنا گنجینۂ دل کی دولت کا
خرچ کروں تو اور زیادہ مل جائے
جیون کا یہ مایا روپ بدل ڈالوں
مجھ کو وہ شہ زور ارادہ مل جائے
آنکھ بہت رو لے تو لمحہ درز بنے
اور وہ درشن پر آمادہ مل جائے
لیکھ یہی ہے دن بھر کی مزدوری میں
نانِ خشک اور آبِ سادہ مل جائے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s