اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی
اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی
رفتہ و آئندہ اس میں متصّل آئے نظر
ہر گھڑی جیسے میری تاریخ کا منشور تھی
شام کی ڈھلوان سے اُسکو اترتے دیکھئے
وُہ جو دن میں روشنی کے نام سے مشہور تھی
خیر ہو خوابوں سرابوں کی کہ اُس کو پا لیا
بعد میں جانا کہ منزل تو ابھی کچھ دور تھی
روز و شب کی گردشوں کے ساتھ پیہم گھومنا
زندگی ایسی مسافت کی تھکن سے چور تھی
لو فرازِ دار پر اپنی گواہی دے چلے
ہم بجا لائے اُسے جو سنّت منصور تھی
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s