اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 47
ان رونقوں کے وسط میں تنہائیاں بھی دیکھ
اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ
انکار ناتمام ہے اقرار کے بغیر
وہ جو برا ہے اُس کی تو اچھائیاں بھی دیکھ
تحریرِ دستِ گُل ہے بہت خوشنما مگر
اس میں نظر کی حاشیہ آرائیاں بھی دیکھ
انبوہ میں بھی ہے مگر انبوہ میں نہیں
ان جلوتوں میں فرد کی تنہائیاں بھی دیکھ
تکرارِ جاں سپردگی بے وجہ تو نہیں
اپنی نظر میں شوق کی رسوائیاں بھی دیکھ
ہرچند چشم شور ہے منظر غروب کا
اس میں طلوع دور کی رعنائیاں بھی دیکھ
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s