آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
شیشوں سے ٹکرائیں شیشے، بھید کھلیں یوں آنکھوں میں
آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں
کیا درشن تھے، ہم تو رہتی عمر کی نیندیں ہار آئے
جاگ رہا ہے اُس گوری کے حُسن کا افسوس آنکھوں میں
اے خود داری آئینے میں عکس مکرر کس کا ہے
کوئی بالکل اُس جیسا ہی رہتا ہے کیوں آنکھوں میں
جاناں ! پہلے رسمِ وفا کی تیاری ہو لینے دو
پھر جذبوں کا سورج بن کر چمکے گا خوں آنکھوں میں
بینائی کی پیاس بڑھے اور ظلمت کا احساس بڑھے
اندر کے در کھولتی جائیں کرنیں جوں جوں آنکھوں میں
شغل کیا جائے بے موسم چاک گریباں کرنے کا
لفظوں کے جادو سے کر لو منظر گلگلوں آنکھوں میں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s