ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
جو دل میں ہے اُسے کہنا ہے صاف صاف مجھے
ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے
مرے سخن اُسے اچھے لگیں ، لگیں نہ لگیں
جو کر سکے تو کرے زندگی معاف مجھے
کسی گدا کی طرح کوئے رزق و جنس میں کیوں
تمام عمر ہی کرنا پڑا طواف مجھے
یہ جور و جبر میں کس کے حساب میں ڈالوں
بجا کہ اپنی کمی کا ہے اعتراف مجھے
یہ نصرتیں ، یہ شکستیں ۔ تمام بے معنی
نہال کر گیا آخر یہ انکشاف مجھے
ہر ایک شکل پسِ شکل مسخروں جیسی
یہ کارِ فکر و متانت لگے ہے لاف مجھے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s