کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
وُہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک
کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک
کھڑی ہیں روشنیاں دست بستہ صدیوں سے
حرا کے غار سے لے کر گیا کے برگد تک
اُٹھے تو اُس کے فسوں سے لہک لہک جائے
نظر پہنچ نہ سکے اُس کی قامت و قد تک
پتہ چلا کہ حرارت نہیں رہی دل میں
گزر کے آگ سے آئے تھے اپنے مقصد تک
وہی اساس بنا عمر کے حسابوں کی
پہاڑا یاد کیا تھا جو ایک سے صد تک
وہی جو دوش پر اپنے اُٹھا سکا خود کو
نیشبِ فرش سے پہنچا فرازِ مسند تک
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s