کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
اُس حسن نے آنکھ کے امبر پر، جو نقش ابھارا ایسا تھا
کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا
پھر تیز ہوا نے پاؤں میں ، ڈالی زنجیر بگولے کی
سو ہم نے گریباں چاک کیا، موسم کا اشارہ ایسا تھا
تھی تو افراط شرابوں کی، لیکن ہم پیاسے کیا کرتے
جو جام چکھا سو توڑ دیا، معیار ہمارا ایسا تھا
ناداری دائز ناداری مارث ہماری نسلوں کی
مر کے بھی نہ جو بے باق ہوا، جینے کا خسارا ایسا تھا
قاتل کو بھی کچھ دقّت نہ ہوئی، مرنا بھی ہمیں آسان لگا
سر فخر سے اونچا رکھنے کا انداز گوارا ایسا تھا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s