کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
بیٹھا ہوں ہونٹوں کے نیچے اوک رکھے
کوئی بِن برسے بادل کو روک رکھے
ایک ابد تک یونہی چلتے رہنا ہے
پاؤں کے اندر کانٹے کی نوک رکھے
کھو دینے اور پا لینے کے دھندے میں
یہ دنیا تو بندے کو ڈرپوک رکھے
دیکھا دیکھی فیصلہ کرنے والے کو
نا آسودہ رستے کا ہر چوک رکھے
ایک شعورِ غم دینے کے بدلے میں
کوئی ہم پر ظلم روا بے ٹوک رکھے
سطح ہوا پر سانس کی چند لکیروں سے
نقش بنانے کا کوئی کیا شوق رکھے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s