کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
عبث ہے یہ پہرے بٹھانا لب و گوش پر
کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر
سفر بھی شعورِ سفر بھی ہے، چلنا تو ہے
وبالِ شب و روز رکھے ہوئے دوش پر
مجھے آن کی آن میں کچھ سے کچھ کر دیا
کسی نے وہ شب خون مارا مرے ہوش پر
یہ خواہش تو تھی ہاں مگر اتنی ہمت نہ تھی
کہ لکھتا زمانے کو میں نوکِ پاپوش پر
مزا چھپ کے پینے میں پہلے سے دُونا ملے
لگا اور پابندیاں مجھ سے مے نوش پر
کبھی تو ہوا تازیانہ لگائے اِسے
کہ دیکھیں سمندر کو آئے ہوئے جوش پر
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s