بے ملاقات ملاقاتیں ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
تجھ سے تنہائیوں میں باتیں ہوں
بے ملاقات ملاقاتیں ہوں
دل میں چاہت ہو بہت جینے کی
لب پہ مرنے کی منا جاتیں ہوں
رُخ تو بدلا ہے، مگر کیا معلوم!
راہِ دیگر میں نئی گھاتیں ہوں
ہے یہ ایسی ہی لڑائی جس میں
کبھی جیتیں ہوں کبھی باتیں ہوں
ہو فقیروں کو تونگر کر دیں
حسن کے نام پہ خیراتیں ہوں
دن کھلیں تازہ گلابوں جیسے
مے سے مہکائی ہوئی راتیں ہوں
جن سے صحرا بھی ہرے ہو جائیں
اس قدر ٹوٹ کے برسائیں ہوں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s