اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہاں اسی دن دھوپ میں ہریالیاں شامل ہوئیں
اِس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں
بادِ آزادی میں ہم سب ناچنے والوں کے ساتھ
پھول پہنے، رقص کرتی ڈالیاں شامل ہوئیں
بوئے گُل سے جانئے کیوں بوئے خوں آنے لگی
باغ میں جب سے تری رکھوالیاں شامل ہوئیں
قہر تو اُس وقت ٹوٹا تھا، صفِ اعدا میں جب
چشم و لب سے قتل کرنے والیاں شامل ہوئیں
خیر کو شر اور شر کو خیر کرنے میں یہاں
جانئے کن کن کی بداعمالیاں شامل ہوئیں
اتنا پیارا ہو گیا ہوں دوستوں کو، کیا کہوں
جب بھی میرا ذکر آیا گالیاں شامل ہوئیں
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s