کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 9
بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی
کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی
رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا
کل وُہ طائر اُڑ گیا پنجرے میں چُوری رہ گئی
تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں
شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی
کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے
اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟
بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے
حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری رہ گئی
کس قرینے سے چھپا یا بھید لیکن کُھل گیا
غالباً کوئی اشارت لاشعوری رہ گئی
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s