وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 4
گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے
وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے
ہے اُسی کے بھید سے حاضر میں غائب کی نمود
دُور کو ہر حال میں نزدیک رکھنا چاہئے
در پئے آزار ہے سنجیدگی کا پیشہ ور
پاس اپنے دشنۂ تضحیک رکھنا چاہئے
پردۂ حیرت میں رہنا اُس کا منشا ہی سہی
پر اُسے پردہ ذرا باریک رکھنا چاہئے
خود بخود آ جائے گا کعبہ جبیں کی سیدھ میں
بس ذرا اندر کا قبلہ ٹھیک رکھنا چاہئے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s