ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 6
پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر
ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر
برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں
لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر
اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے
گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر
موجود بھی کہیں نہ کہیں التوا میں ہے
جو ہے نشان پر وہ نہیں ہے نشان پر
اس میں کمال اس کی خبر سازیوں کا ہے
کھاتا ہوں میں فریب جو سچ کے گمان پر
سرکش کو نصف عمر کا ہو لینے دیجئے
بک جائے کا کسی نہ کسی کی دکان پر
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s