میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 9
تم دن کے وقت شام کا منظر نہ دیکھنا
میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا
پھر روشنی ہی بعد میں پھیکی دکھائی دے
چہرہ کسی کا ایسا منور نہ دیکھنا
میدانِ تشنگی کی یہ آنکھیں امام ہیں
ہے دیکھنے سے واقعی بہتر نہ دیکھنا
ڈر جاؤ گے خلائے بے معنی کے خوف سے
باہر سے جھانک کر کبھی اندر نہ دیکھنا
اپنی ہی دُھن میں ٹھوکریں کھاتے چلے گئے
تھا وصفِ خاص راہ کا پتھر نہ دیکھنا
آیا کوئی سفیرِ محبت چلا گیا
اب مدتوں ہم ایسا سخن ور نہ دیکھنا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s