لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 2
مثالِ سیلِ بلا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے
لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے
کہیں کہیں دھوپ چھپ چھپا کر اُتر ہی آئی
دبیز بادل ہوئے اکہرے، ہوا نہ ٹھہرے
ورق جب اُلٹے، کتابِ موسم دکھائے کیا کیا
گلاب عارض، بدن سنہرے، ہوا نہ ٹھہرے
وہ سانس اُمدی کہ وہ حسوں نے غضب میں آ کر
گرا دئیے جس کے کٹہرے، ہوا نہ ٹھہرے
کبھی بدن کے روئیں روئیں میں حواس ابھریں
کبھی کرے گوشِ ہوش بہرے، ہوا نہ ٹھہرے
اسی کی رفتارِ پا سے ابھریں نقوش رنگیں
کہیں پہ ہلکے، کہیں پہ گہرے، ہوا نہ ٹھہرے
صدائے ہر سُو کے گنبد ہیں گونجتی ہے
ہوا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s