غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 1
زمیں کی کشت میں بو، آندھیوں میں پال مجھے
غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے
میں اپنے ظرف میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا
چھلک رہا ہوں ، ذرا دے میرے مثال مجھے
جلا چراغ تو شب سائیں سائیں کرنے لگی
ذرا سی موجِ طرب کر گئی نڈھال مجھے
میں اپنی اصل کو دیکھوں تری نگاہوں سے
مرے وجود سے باہر ذرا نکال مجھے
میں پیش وقت ہوں مجرم ہوں اِس زمانے کا
نئی سیاستیں شاید کریں بحال مجھے
کسی کے ہارے ہوئے عزم کی ضمانت ہوں
بنا رکھا ہے زمانے نے یرغمال مجھے
میں اپنی ذات میں ہوں سرحدوں کا باشندہ
منافقت نے سکھایا ہے اعتدال مجھے
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s