عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 5
وقت کے موجود سے باہر نکلنے کی سزا
عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا
جزیۂ انکار دینا تو پڑے گا دہر کو
رات دن اب کاٹیے کمرے میں چلنے کی سزا
تم اسے چاہو نہ چاہو، واقعہ ایسا ہی ہے
جو ابھرتا ہے اُسے ملتی ہے ڈھلنے کی سزا
غم زیادہ پی لیا، اب مستقل پیتے رہو
سخت تر ہے اس کے نشے میں سنبھلنے کی سزا
میں نے بھی پائی ہے اپنی ضد میں سورج کی طرح
ایک عالم گیر تنہائی میں جلنے کی سزا
تم زیاں اندیش تو ہو لو، ملے گی پھر تمہیں
شہرِ اشیا کے کھلونوں سے بہلنے کی سزا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s